کوئی وعدہ ترا وفا نہ ہوا
Poet: Zeeshan Lashari By: Zeeshan Lashari, Kunriکوئی وعدہ ترا وفا نہ ہوا
پھر بھی کیوں تجھ سے دل خفا نہ ہوا
کیا ضروری ہے داستان کہوں
ہے خلاصہ کہ وہ مرا نہ ہوا
بے دلی سے عبادتیں کرنا
ہم سے یہ کام اے خدا نہ ہوا
بس یہی زندگی قیامت ہے
کیا ہے وہ حشر جو بپا نہ ہوا
واعظو مے بری نہیں اتنی
خلد بھی جبکہ مے سوا نہ ہوا
آخرت میں خدا عذاب نہ دے
کیا ستم ہے جو یاں روا نہ ہوا
بس یہی عشق ہے سوا اس کے
یاں مرض کوئی لا دوا نہ ہوا
بے ضرر زندگی گزاری ہے
ہم سے غیروں کا بھی برا نہ ہوا
ایک افسوس ہے جو باقی ہے
وہ درِ دل جو ہم پہ وا نہ ہوا
ہم نے کئی بار ان سے باتیں کیں
عرض لیکن وہ مدعا نہ ہوا
بات جب چل پڑی محبت کی
اٹھ کے محفل سے وہ روانہ ہوا
ہم نے غالبؔ کو بار بار پڑھا
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
ہو گئی شانؔ عمر قید تجھے
جو پھنسا زلف میں رہا نہ ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






