کوئی ٹوٹی ہوئی کشتی کا تختہ بھی اگر ہے لا

Poet: شفیق جونپوری By: نعمان علی, Islamabad

کوئی ٹوٹی ہوئی کشتی کا تختہ بھی اگر ہے لا
ابھی ساحل پہ ہے تو اور پیش از مرگ واویلا

اندھیری رات سے ڈرتا ہے میر کارواں ہو کے
اندھیرا ہے تو اپنے داغ دل کی روشنی پھیلا

نہ گھبرا تیرگی سے تو قسم ہے سنگ اسود کی
کہ تاریکی ہی میں سوئی ہے شام گیسوئے لیلا

مذاق شادی و غم تا کجا اے خاک کے پتلے
جو ان دونوں سے بالاتر ہوں ایسی بھی کوئی شے لا

شراب عصر نو میں بے خودی ہے نے خودی ساقی
جو تو نے آج سے پہلے پلائی تھی وہی مے لا

من انداز قدت را می شناسم مرد افرنگی
کہ کپڑے صاف ہیں لیکن بدن ناپاک دل میلا

کسی کا ناز حسن اور اے شفیقؔ اپنا یہ کہہ دینا
کہ قیمت میں اگر دل کے برابر ہو کوئی شے لا

Rate it:
Views: 554
26 May, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL