کوئی کیا جانے ؟ وہ ستمگر کس بلا کا تھا

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

جیسے سب کہتے ہیں مسیحا اپنا
کوئی کیا جانے ؟ وہ ستمگر کس بلا کا تھا

مہربان بن کے آیا تھا میرے شہرے میرے لیے
کیسے ُاتر گیا دل میں وہ شخص کس ادا کا تھا

وقت ُرخصت ُاس نے مڑ کر بھی نا دیکھا
میرا مہربان میرے دل کا چور بھی کتنی انا کا تھا

میں نے چھوڑ دیا ہیں تمہیں - ہاں یہی آخری جملہ تھا
شاید میری بے لوث محبت پے -وہ اپنی تلخی سے شرمسار سا تھا

میری مانت،میری منیت، میرے آنسو نہ روک سکے ُاسے
مجھ سے بچھڑے کا فیصلہ کسی پتھر کی لکریں کا تھا

ضبط کا اک آنسو گر ہی گیا ُاس کے ُرخسار پے لکی
مگر افسوس ! ُاس دن برسا کے بارش بادل بھی ُاسی کے ساتھ کا تھا

Rate it:
Views: 565
07 Dec, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL