کوئی یاد ماضی کی
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTگر کوئی پریشانی آ جائے
آنکھوں میں پانی آجائے
جب راہیں لگنے لگیں سنسان سی
جب دنیا دکھنے لگے ویران سی
جب تنہائی کے اندھیرے چھا جائیں
چراغ آنکھوں کے دھندلا جائیں
کوئی یاد ماضی کی ستانے لگے
کوئی قصہ پرانا یاد آنے لگے
جب کوئی عکس نظر آئے دیواروں پر
جب اداسی منڈلائے رخساروں پر
جب غم کا بوجھ نہ ہلکا ہو
کوئی آنسو بن کے چھلکا ہو
جب بیتے دنوں کے اوراق پر
جب داستاں لکھو فراق پر
کوئی سپنا نیا بننا ہو
یا عنوان نیا چننا ہو
جب منزل کی نہ راہ ملے
جب دنیا سے نہ چاہ ملے
ایسے میں یاد مجھے تم کر لینا
میں تمھارا ہاتھ پکڑ کے کہہ دوں گا
پیارے میں ہوں نا پیارے میں نا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






