کون آ گیا ہے
Poet: Diya By: Diya, D.i.khanخاموش سی آنکھوں میں انجان سا چہرہ ہے
دل کی ویران گلی میں یہ کون آگیا ہے
کون ہے وہ جس کی آمد سے پہلے ہی
دل بے طرح دھڑکا ہے،بے تاب ہو گیا ہے
کیوں آنکھ میں ہیں آنسو، کیوں دل اداس ہے یہ
یہ غم میرا اپنا ہے یا غم یہ تیرا ہے
لوگوں نے الفتوں کے روشن دیے کیے تھے
سب جل رھے ھیں لیکن بس میرا بجھ گیا ہے
باہر گلی سے کوئ گزرا نہیں ہے لیکن
خوشبو سی آ رہی ہے، دروازہ کھل گیا ہے
اک بار تو یہ کہہ دو کہ وہ تم ہی ہو
دل جس کا منتظر تھا،دل میں جو آگیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







