کون جیتے گا یہی شرط
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکون جیتے گا یہی شرط لگی ہوئی ہے
ہارتا کون ہے اب قوم ڈری ہوئی ہے
گرنے کے بعد اسے ہوش نہیں آیا ہے
جسم پر مٹی ابھی تک ہی جمی ہوئی ہے
جانے کس نے یہ کیا وار ہے چوری چپکے
غور سے دیکھو شجر شاخ کٹی ہوئی ہے
دور سے آئے ہیں آثار نظر غربت کے
کہہ دیا ہے اسے دستار پھٹی ہوئی ہے
اتنی مہنگائی ہے کم دام نہیں لوں گا میں
رہنے دو بس یہ مکی میری بکی ہوئی ہے
عشق کے مارے یہاں لوگ سبھی ہیں اکٹھے
اب چلے آؤ یہ محفل تو سجی ہوئی ہے
ملتے عشاق ہیں بے لوث محبت سے جب
جھک نہیں پائے نظر ان کی اٹھی ہوئی ہے
لوگ شہزاد غریبوں کی کرتے ہیں مدد
کب سے ہی رسمِ درینہ تو چلی ہوئی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






