کون کہتا ہے محبت کی مجھے حاجت نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارککون کہتا ہے محبت کی مجھے حاجت نہیں
ہاں مگر رنج و الم سہنے کی اب طاقت نہیں
ہار ہے سینے یہ میرے گردشِ ایام کا
اب کسی بارِ گراں کی قلب کو چاہت نہیں
رنج و غم اپنے چھپاتی ہوں میں شاہد اس لیے
دل کو میرے دشت میں بس لالچِ شہرت نہیں
دل میں طوفان کی شدت ہے مگر اے نا خدا
غرق ہونے کی مری کشتی کو اب حسرت نہیں
مل تو جائے گی تجھے منزل بھی وشمہ ایک دن
ہاں مگر تیری تڑپ میں دیکھ لے شدت نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






