کون ہے

Poet: Iqbal Azeem By: Wajid Imran, Pirmahal

آج کل سچ پوچھیے تو مسکراتا کون ہے
خود فریبی ہے فقط، ہنستا ہنساتا کون ہے

میری نیندیں اُڑ گئی ہیں یہ تو کہہ سکتا ہوں میں
یہ مگر مت پوچھئے نیندیں اُڑاتا کون ہے

تم نہیں آتے نہ آؤ، تم سے شکوہ بھی نہیں
تم سے کہتا کون ہے، تم کوُ بلاتا کون ہے

تم نہیں سُنتے اگر افسانہ غم، مت سنو
ہر کس و ناکس کو افسانہ سُناتا کون ہے

اس سے پہلے بھی کیا ہے ہم نے اُن کا اعتبار
ایسے وعدے تو بہت ہوتے ہیں آتا کون ہے

اُن کی محفل دیکھنے کا شوق تو ہم کو بھی ہے
ہم وہاں جاتے، مگر ہم کو بُلاتا کون ہے

فتنہ ہائے دہر کے اقبال شاکی ہیں سبھی
اِن سے یہ پوچھے کوئی فتنے جگاتا کون ہے

Rate it:
Views: 538
19 Aug, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL