کون ہے
Poet: Iqbal Azeem By: Wajid Imran, Pirmahalآج کل سچ پوچھیے تو مسکراتا کون ہے
خود فریبی ہے فقط، ہنستا ہنساتا کون ہے
میری نیندیں اُڑ گئی ہیں یہ تو کہہ سکتا ہوں میں
یہ مگر مت پوچھئے نیندیں اُڑاتا کون ہے
تم نہیں آتے نہ آؤ، تم سے شکوہ بھی نہیں
تم سے کہتا کون ہے، تم کوُ بلاتا کون ہے
تم نہیں سُنتے اگر افسانہ غم، مت سنو
ہر کس و ناکس کو افسانہ سُناتا کون ہے
اس سے پہلے بھی کیا ہے ہم نے اُن کا اعتبار
ایسے وعدے تو بہت ہوتے ہیں آتا کون ہے
اُن کی محفل دیکھنے کا شوق تو ہم کو بھی ہے
ہم وہاں جاتے، مگر ہم کو بُلاتا کون ہے
فتنہ ہائے دہر کے اقبال شاکی ہیں سبھی
اِن سے یہ پوچھے کوئی فتنے جگاتا کون ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






