کوکھ میں قتل
Poet: عرشی ملک By: Arshi Malik, Islamabadبھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں
مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں
میں ماں کی کوکھ کے اندر بھی ڈرتی رہتی ہوں
سہم سہم کے میں بے موت مرتی رہتی ہوں
……………………………
سنا میں نے کہ سائنس کی یہ ترقی بھی
ہمارے واسطے لائی ہے اک نئی افتاد
سُنا ہے ایسی مشینیں بھی ہو گئیں ایجاد
جو ماں کی کوکھ کے اندر کے سب مناظر بھی
چمکتی جاگتی سکرین پر دکھاتی ہیں
جو نسل و جنس کا پورا پتہ بتاتی ہیں
……………………………
سُنا ہے ،مائیں بھی خود بیٹیوں کی دُشمن ہیں
جب اپنی’’ رحم‘‘ میں بیٹی کا جان لیتی ہیں
تو اس کے قتل کی پھر دل میں ٹھان لیتی ہیں
……………………………
بھلی تھی رسم ،ہمیں زندہ گاڑ دینے کی
تو قبر بنتی تھی آنسو بہائے جاتے تھے
جو باپ لے کے ہمیں قتل گاہ جاتا تھا
نئے لباس میں ہم بھی سجائے جاتے تھے
ہمارے سر پہ ربن بھی لگائے جاتے تھے
………………………
پر ایسا ظلم تو دیکھا سنا نہ دنیا میں
بہت سی ہیں مری بہنیں کہ جن کو مل نہ سکا
کفن کے نام پہ کپڑا کوئی نیا عرشیؔ
کہ جن کا کوئی جنازہ اُٹھا نہ ارتھی ہی
زمیں پہ ایک دو بالشت بھی جگہ نہ ملی
ہمیں تو ماؤں کے رحموں میں بھی پنہ نہ ملی
…………………………
بہت سی ہیں میری بہنیں جو ماؤں کے ہاتھوں
انہیں کی کوکھ کے اندر مٹائی جاتی ہیں
خوشی کے ساتھ گٹر میں بہائی جاتی ہیں
…………………………
ابھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں
مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں
میں ماں کی کوکھ کے اندر بھی ڈرتی رہتی ہوں
سہم سہم کے میں بے موت مرتی رہتی ہوں
…………………………
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






