کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے اِس بھرے سنسار میں
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہکُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے اِس بھرے سنسار میں
پُھول سے دامن ہے خالی گر چہ ہیں گُلزار میں
پِھر محبّت اِس طرح بھی اِمتحاں لیتی رہی
جیب خالی لے کے پِھرتے تھے اِسے بازار میں
چُرمراتے سُوکھے پتوں پر قدم رکھتے ہوئے
کھو کے رہ جاتے ہیں ماضی کی حسِیں مہکار میں
کیا ہی اچھّا تھا کہ ہم کرتے کِسی نُقطے پہ بات
ہم دُکاں داری لگاتے ہیں فقط تکرار میں
کل تمہارے پاؤں چاٹیں گے ہمارا کام ہے
آج حاضِر ہو نہِیں پائے اگر دربار میں
زیدؔ نے لوگوں میں بانٹا، آج آٹا، دال، گِھی
اِس توقع پر کہ ہو گی کل خبر اخبار میں
ہم تُمہاری بے زبانی سے تھے تھوڑا آشنا
کِھلکھلاتی "ہاں" چُھپی تھی "پُھسپُھسے اِنکار میں
شاعری تو خاک کر لیں گے مگر اِتنا ضرور
فیضؔ کا سندیس گویا روزنِ دِیوار میں
کیا حقِیقت پُوچھتے ہو، زِندگی اِک جبر ہے
درد بن کر خُون بہتا ہے تِرے فنکار میں
آخری شمعیں بھی اب تو پھڑپھڑا کے رہ گئِیں
مُنتظِر بیٹھے ہوئے ہیں ہم یہاں بےکار میں
وہ، تعلُّق جِس کی خاطِر سب سے توڑا تھا رشِیدؔ
لو چلا ہے وہ بھی ہم کو چھوڑ کر اغیار میں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






