کٹی پتنگ
Poet: Bakhtiar Nasir By: Bakhtiar Nasir, Lahoreچاہ میں چاہ کا کوئی رنگ تو ہو
اس در کے دوارے کوئی سنگ تو ہو
سب دیپ کیوں بجھیں‘ اک تو رہے
دل میں اس کی باقی امنگ تو ہو
رنگیں مزاج کو کب جچے گی سادگی
وہ آئے تو اک منقش پلنگ تو ہو
انکو دیکھے سے ہمیں بھی آئی بیگانگی
ہمارے نہ ملنے سے وہ اب تنگ تو ہو
بحر سے جو ڈھونڈا جائے گا اک موتی
وہ میرے معیار کے پاسنگ تو ہو
باہر تو کرفیو لگا ہے صبح و شام کا
ان کی خبر واسطے اک سرنگ تو ہو
بہت لڑاتے رہے پیچ اب تلک ناصر
تیجہ اب اک کٹی پتنگ تو ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






