کچھ اور بات ہوتی
Poet: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati By: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati, Hyderabad, Pakistanترا قرب اگر میں پاتا تو کچھ اور بات ہوتی
ترے دل میں گھر بناتا تو کچھ اور بات ہوتی
چمنِ جہاں میں پھر سے ہے بہار لوٹ آئی
گر تو بھی لوٹ آتا تو کچھ اور بات ہوتی
شب و روز کٹ رہے ہیں غمِ روزگار میں ہی
غمِ یار گر ستاتا تو کچھ اور بات ہوتی
نہ جہاں میں عام ہوتے یہ تری جفا کے قصے
تو عہد اگر نبھاتا تو کچھ اور بات ہوتی
تری بے رخی کے صدقے مرے ہر نفس میں تجھ کو
میں اگر شریک پاتا تو کچھ اور بات ہوتی
میری منتظر نگاہیں رہِ یار پر ہیں یاسر
وہ جو اک جھلک دکھاتا تو کچھ اور بات ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






