کچھ اور تھا
Poet: By: رشید حسرت, کوئٹہہم یہاں کے ہو لیئے پر کام تو کچھ اور تھا
پا لیا سکھ بھی، مگر الزام تو کچھ اور تھا
دیکھ تیری ضد کے آگے ہم تو جھکنے سے رہے
کیا ہؤا ہے صبح، اے دل! شام تو کچھ اور تھا
اس نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر دیا قاصد تجھے
آتے آتے کیا ہؤا، پیغام تو کچھ اور تھا
لوٹتے ہیں گاہکوں کو سامنے والے بھی تو
اُس نے مانگا اور، اُس پر دام تو کچھ اور تھا
اب کے اس نے بھی بدل ڈالا ہے اندازِ کلام
جو ہمیں دیتا رہا، دُشنام تو کچھ اور تھا
کتنی چاہت سے پکا کر وہ کھلاتا تھا ہمیں
ہم اُسے کرموؔ بلاتے، نام تو کچھ اور تھا
اب حکومت نے نوازا، ماں سے پاتے تھے کبھی
ایک آنہ بھی اگر انعام تو کچھ اور تھا
اب بھی سر میں تیل بیوی ڈال دیتی ہے کبھی
ماں کے ہاتھوں میں مگر آرام تو کچھ اور تھا
جب تلک ساقی کے قبضے میں تھا صورت اور تھی
آ گیا ہاتھوں میں اپنے جام، تو کچھ اور تھا
آم پیلے بھی بہت اچھے تھے بچپن میں، مگر
اور کوئی ان میں ہوتا خام تو کچھ اور تھا
تو نے خود کو خاص کر کے اپنا کھویا ہے وقار
جب تلک رکھا تھا فیضِ عام تو کچھ اور تھا
ہم کتابوں میں پڑے سوکھے گلابوں میں رہے
زرد پتوں کا ہؤا الہام تو کچھ اور تھا
ہم نے جب جا کر خریدا ایک کپڑا تھا رشیدؔ
اور جب باندھا اسے (احرام) تو کچھ اور تھا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






