کچھ بھی نھیں چاہیے تجھ سے اے دوست

Poet: By: Abdul Latif Rahimoon, badin sindh Pakistan

کچھ بھی نھیں چاہیے تجھ سے اے دوست
تیرے سنگ وہ گزرے ہوئے لمحات لوٹا دے

وہ باتیں، وہ یادیں، وہ محبت میری،
وہ شامیں، وہ برساتیں، جب ساتھ ہنسے ساتھ روئے
پھر سے وہ ہی خوشیاں لوٹا دے

جب کبھی آنسوں پڑے رخسار پر میرے
وہ بڑھ کر آنچل سے پونچ لینا تیرا

میرا روٹھنا اور منا لینا تیرا
پھر مناتے مناتے روٹھ جانا تیرا

جب وہ حسین لمحات یاد آتے ہیں
لبوں سے یہ ہی دعا نکلتی ہے میری
وہ اپنے سنگ گزرے ہوئے لمحات لوٹا دے

کچھ بھی نہیں چاہیے تجھ سے اے دوست
تیرے سنگ وہ گزرے ہوئے لمحات لوٹا دے

Rate it:
Views: 951
16 Sep, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL