کچھ تو جینے کا سامان ہو جائے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabia

کچھ تو جینے کا سامان ہو جائے
وہ روح با روح آئے اور میرا غلام ہو جائے

کھول کر بیٹھی ہوں دل کا دروازہ مددت سے
کہ اب کی بار تو وہ میرے دل کا مہمان ہو جائے

غیر تو غیر - دوستوں نے بھی دے دیا دغا
وقت گزانے کے لیے چلو کچھ ارشاد ہو جائے

یہ رات کے پل - تنہا پل کیسے گزارتے ہو ؟
میرے سنسان کمرے میں بھی خوشی کا سماء ہو جائے

وہ ویسا نہیں نکلا جیسا میں کہتی تھی سب کو
کاش کے اب دل ناتے سننے کو تیار ہو جائے

قسمت کتنا مجبور بنا دیتی ہیں انسان کو
کوئی تقدیر کے ہاتھوں بھی نا خوار ہو جائے

میں ُاسے منانے تو جا رہی ہوں لیکن
ڈر ہے کہیں میرا ذہین پہلے ہی نا بدگمان ہو جائے

Rate it:
Views: 645
04 Mar, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL