کچھ تو ملے تیرا پتہ تیز ہوا کے شور میں

Poet: Rafique jabir By: kazmain naveed, karachi

کچھ تو ملے تیرا پتہ تیز ہوا کے شور میں
میری صدا پہ دے صدا تیز ہوا کے شور میں

اہل خرد کو کیا خبر اور بھی دے اٹھے کا لؤ
اہل جنوں کا نقش پا تیز ہوا کے شور میں

شاخ سے ہو کے جب جدا جب اک گل تر بکھر گیا
میری شناخت بن گیا تیز ہوا کے شور میں

کون یہ ساتھ ساتھ تھا ہاتھ میں کس کا ہاتھ تھا
کون ابھی بچھڑ کیا تیز ہوا کے شور میں

گل تو ورک ورک ہوا ہاتھ نہ میرے آسکا
کانٹوں کو میں نے چن لیا تیز ہوا کے شور میں

ظلمت شب لرز اٹھی کانپ آندھیوں کا دل
ایک دیا جو جل اٹھا تیز ہوا کے شور میں

جابر نغمہ سنج پر اس نے بڑا کرم کیا
بخش کے جرآت نوا تیز ہوا کے شور میں

Rate it:
Views: 494
01 Aug, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL