کچھ تو ہے جو دل کو تمہاری بات لگتی ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreکچھ تو ہے جو دل کو تمہاری بات لگتی ہے
جب تم بات کرتے ہو ہماری رات جگتی ہے
تم کہو اور ہم سنیں ہم سنیں اور تم کہو
تم جو بات کرتے ہو ہماری بات لگتی ہے
آنکھوں کی آرزو کہ تمہیں دیکھتی رہیں
کہ سب سے منفرد تمہاری ذات لگتی ہے
تم جو ساتھ ہو تو صحرا کی سیاحت بھی
بہار کے پھولوں کی بارات لگتی ہے
تم ساتھ ہو تو آسماں بھی اک سائبان ہے
اور دھوپ کی تپش بھی برسات لگتی ہے
وہ چاند سا چہرہ میرے جیون میں کیا آیا
ہر رات مجھے اب چاندنی رات لگتی ہے
عظمٰی پہ جیسے دھن سوار ہو تو دیکھنا
جس کام میں لگتی ہے دن رات لگتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






