کچھ دن سے تار تار ہمارا ہوا نصیب
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارککچھ دن سے تار تار ہمارا ہوا نصیب
ہے ساتھ ساتھ میرے یہ ہارا ہوا نصیب
پہنا ہوا ہے میں نے کہ پہچان ہے تری
تو دے گیا ہے مجھ کو اتارا ہوا نصیب
بکھڑی پڑی ہیں کرچیاں تیرے خیال کی
بکھڑا پڑا ہے ہر سو سنوارا ہوا نصیب
جب زندگی یہ درد کی موجوں کی زد میں تھی
دریا کے درمیان کنارہ ہوا نصیب
کیا بات ہے کہ آج مرے نام کر دیا
مجھ کو بھی اک وفا کا شمارہ ہوا نصیب
الزام میں نے قادرِ مطلق پہ دھڑ دیا
خود اپنے ہاتھ سے ہے بگاڑا ہوا نصیب
جانے وہ لوگ کون ہیں وشمہ جہان میں
اس زندگی میں جن کا ستارہ ہوا نصیب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






