کچھ دیر اور نظروں کے سحر میں رہنے دیجیۓ
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Huston
کچھ دیر اور نظروں کے سحر میں رہنے دیجیۓ
قطرہ قطرہ اس تن میں جامِ سحر کو اترنے دیجیۓ
تقاضہ احترام میں دہلیز پے آپکی خاموش آبیٹھے
تقاضہ مہماں نوازی میں آپ لگی پیاس مٹا دیجیۓ
کون جانے پھر کب لوٹ کرآیئں پردیسی پردیس سے
ہونٹوں سے نہ سہی نگاہوں سے جامِ محبت پلا دیجۓ
سوالی بنکے آے در پے آپ کے پیغامِ محبت لے کے
چلمن پلکوں کی ا ٹھا کے آپ جواب محبت سنا دیجیۓا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






