کچھ دیپ محبت کے جلانے کے لیے آ
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: شاہد علی خان, Karachiکچھ دیپ محبت کے جلانے کے لیے آ
آ پھر سے کوئی شام سجانے کے لیے آ
بے رنگ سا امبر ہے کئی بیتے ہیں ساون
پھر کوئی دھنک مجھ کو دِکھانے کے لیے آ
میں دشت کی مٹی ہوں تو پربت کا ہے جھرنا
آ میری کبھی پیاس بجھانے کے لیے آ
فرقت کا یہ موسم مرا دم گھونٹ رہا ہے
سانسوں سے مری سانس ملانے کے لیے آ
جاتے ہوئے کہہ جانا کہ ہم پھر سے ملیں گے
جھوٹی ہی سہی آس لگانے کے لیے آ
مایوس سا پنچھی ہے نشیمن میں جو بیٹھا
تو اس کو فضاؤں میں اڑانے کے لیے آ
میں ایک زمانے سے ہوں بیگانہ سا خود سے
تو مجھ کو مرا حال سنانے کے لیے آ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






