کچھ سوکھے پھول اپنے کتابوں میں رکھتی تھی
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکچھ سوکھے پھول اپنے کتابوں میں رکھتی تھی
وہ پاگل سی لڑکی کیا عذابوں میں رکھتی تھی
کوئی ٹھہراؤ خلل قریب سے گذرا تھا شاید
وہ چلتے بھی خود کو باتوں میں رکھتی تھی
خود ہی کے خیال میں خود ہی سمٹ کر
یوں دباکر ہی انگلی دانتوں میں رکھتی تھی
بہکتے ہاتھوں میں وہی کپکپاتی قلم لیکر
آخر کون سی تحریریں یادوں میں رکھتی تھی
دھڑکنوں کی ردم بھی زمانہ نہ سُن لے تو
حسرتوں کے سبھی فساد سانسوں میں رکھتی تھی
وہ تردید کا نشہ عالم سے چھپاکر سنتوشؔ
اپنی سب انگڑایاں چاند راتوں میں رکھتی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






