ہجومِ غیر تیرے در پر مجھے اچھا نہیں لگتا
Poet: Abdul Waheed Sajid By: Abdul Waheed Ghori, DUNYAPUR, DISTRICT LODHRANہجومِ غیر تیرے در پر مجھے اچھا نہیں لگتا
بدلتا یہ تیرا تیور مجھے اچھا نہیں لگتا
بچھڑ کر تجھ سے بارہا ہوا ایسا بھی ہے جاناں
کبھی کبھی خود اپنا گھر مجھے اچھا نہیں لگتا
میں تیرا ہو نہیں سکتا مجھے اِتنا نہ سوچا کر
وہ مجھ سے کہہ تو دیتا ہے مگر اچھا نہیں لگتا
مسافر ہوں محبت کا مسافت طے بھی کر لوں گا
مگر تو ساتھ نہ ہو تو سفر اچھا نہیں لگتا
میں جس کو یاد کرتا ہوں زمانہ بھول کے یارو
وہ میری یاد سے ہو بے خبر اچھا نہیں لگتا
بھلے مجھ کو نہ اپناؤ فقط اِک بار تو سوچو
بِنا پھل کے کوئی بھی ہو شجر اچھا نہیں لگتا
وُہی رستے جہاں پر ساتھ چلتے تھے کبھی مِل کے
رقیبوں کا وہاں پر ہو گُزر اچھا نہیں لگتا
میری آنکھوں کو نم کر کے وہ مجھ سے کہہ بھی دیتا ہے
تیرے دِل پہ کروں کوئی جبر اچھا نہیں لگتا
سنا ہے پیار میں تھوڑا صبر سے کام چلتا ہے
مگر میں کیا کروں مجھ کو صبر اچھا نہیں لگتا
تمہارا نام لیتا ہے تجھی سے پیار کرتا ہے
ساجد کو زہر ہی دیدے اگر اچھا نہیں لگتا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






