کچھ لوگ تھک گئے ۔۔۔

Poet: Dr. Humera Islam By: Dr. Humera Islam, Karachi.

کچھ لوگ تھک گئے
رستہ میں رک گئے
کارواں چلتے رہے
لوگ بھی ملتے رہے
ساتھ بھی چلتے رہے
پر
دل یہ سوگوار ہے
لٹکی سی اِک تلوار ہے
اب حادثہ کوئی نہ ہو
مجھ سے جدا کوئی نہ ہو
دن رات کی یہ رونقیں
بجھی بجھی سی ہیں سبھی
جیسے کوئی کمی سی ہے
آنکھوں میبں بھی نمی سی ہے
آج کا یہ دن جو تھا
تیرے بنا گزر گیا
بس دل کو ہے میرے خبر
اس دل میں ہے ایسی قبر
جسمیں دفن ہیں حسرتیں
اور کچھ ہیں خواہشیں
یہ جدائیاں آتی نہیں
ہم سب کو پڑپاتی نہیں
پر
کچھ لوگ تھک گئے
رستے میں رک گئے

Rate it:
Views: 674
11 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL