کچھ لوگ کجروی سرکشی کا مزاج بن گئے ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکچھ لوگ کجروی سرکشی کا مزاج بن گئے ہیں
جب سے وہ زندگی کے محتاج بن گئے ہیں
دامن بھی ہیں لیکن پناھیں کہاں سے لائیں
درد چھُپ نے سکے اور عذاب بن گئے ہیں
نگاہوں پہ نقاب ہیں مگر خواہشیں تو قید نہیں
بند رہ گئی زبان اور اظہار حجاب بن گئے ہیں
دُور تھے تو سبھی لگ رہے تھے محبت کے منظر
لیکن قریب رہکر تو کچھ حساب بن گئے ہیں
بڑا کٹھن ہے حسرتوں سے مکر کر بیٹھ جائیں
سمونے لگے سلسلے تو یہ آداب بن گئے ہیں
خاک پر کھڑے ہوکر جس کو بھی چاند پکارا
آج وہی پہلو سبھی ماھتاب بن گئے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






