کچھ نفرت
Poet: Hukhan By: Hukhan, karachiیوں نہ اُداس تم رہا کرو
دنیا داری میں ہی
مسکرا زرا دیا کرو
رنگ ہیں دنیا میں بہت سے
کوئی اک تو چُن لیا کرو
آسان نہیں ہے گر مسکرانا
بے وجا ہنس دیا کرو
کھوج میں رہتے ہیں سب
ہنس کے اُنہیں ٹال دیا کرو
آنکھیں بہت ہیں سچ بولتی
نظر بچا کے اُنہیں صاف کر لیا کرو
کوئی خواب نہ چرا لے تمہارے
زیادہ اُنہیں نہ دیکھا کرو
دوست تو تمہارے ہیں بہت سے
کوئی اک دشمن بھی رکھا کرو
سراپا محبت ہو تم
کچھ نفرت بھی تو کیا کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






