کھوئی کھوئی رہتی ہوں

Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, Haroonabad

کھوئی کھوئی
رہتی ہوں
درد دل سہتی ہوں
نا کسی سے
بات کرتی ہوں
نا کسی سے
ملاقات کرتی ہوں
تنہائیاں میں
سہتی ہوں
کھوئی کھوئی
رہتی ہوں
پوچھتے ہیں
لوگ مجھ سے
اچانک یوں خاموش
ہو جانے کا سبب
نا کسی سے کچھ
کہتی ہوں
نا کسی سے کچھ
کہہ پاتی ہوں
کھوئی کھوئی
رہتی ہوں
گذرے وقتوں میں
سلگتی ہوں
جدائی کے
آنسو پیتی ہوں
سوچ کی وادیوں
دور تک نکلتی
ہوں
سوچ کی وادیوں
میں بھی
تم اب نہیں ملتے
تم کیوں نہیں
ملتے
تم تو میرے تھے نا
ہاں تم کبھی میرے تھے
تیری یادوں
کا ساتھ لے کر
تنہائیوں میں
سفر کرتی ہوں
کھوئی کھوئی
رہتی ہوں
درد دل سہتی
ہوں
بہت تیز گذر رہا
ہے وقت
وقت کے ساتھ
اب میں بہتی
ہوں
کھوئی کھوئی
رہتی ہوں

Rate it:
Views: 533
08 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL