کھوکے جیؤ تو چلن بھی لگے کہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکھوکے جیؤ تو چلن بھی لگے کہیں
جہاں کی نمائش چمن بھی لگے کہیں
میری چاہتوں کی شدت اب بھی پیاسی
تجھے پھر ایسی لگن بھی لگے کہیں
چلو جستجو کہیں چشم میں دیکھ لیں
کہ کوئی تو آنکھ مگن بھی لگے کہیں
فلک اور فنائی تک رسائی تو نہیں
مجھ میں جو سمایا گگن بھی لگے کہیں
ابکہ ہر جماؤ اچھا لگتا ہے لیکن
وقت پر آکے یہ فگن بھی لگے کہیں
وہ مسافر بھی ٹھہر جائیں گے سنتوشؔ
مگر اس خاک پہ امن بھی لگے کہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






