کھڑکیاں
Poet: نور دلکشؔ By: noordilkash, indiaشہر تیرا ، تیرے دیوار اور در، یہ کھڑکیاں
؛ میں کروں گا یاد اَب فُٹ پاتھ پر یہ کھڑکیاں
چل رہی ہے آج کل ہر سَمت زہریلی ہوا
تُم سدا رکّھا نہ کیجے کھول کر یہ کھڑکیاں
جَب کبھی دُکھ کی ہوائیں گھر میں ہیں چلتی مرے
پیٹتی ہیں اپنے دروازوں سے سر یہ کھڑکیاں
میرے گھر کی بےبسی پر ، اور مرے حالات پر
پڑھ رہی ہیں مرثیہ شام و سحر یہ کھڑکیاں
لؤٹ کر میں پھر نہ آؤں گا ،تمہارے شہر میں
بند کرنا ہے ، تو کرلو سوچ کر یہ کھڑکیاں
اَب مرے جانے کا تُم کو غم نہیں پر ، ایک دِن
راستہ دیکھو گے میرا، تھام کر یہ کھڑکیاں
یاد آتا ہے دریچے سے ، ترا وہ دیکھنا
فِکر سے ہٹتی نہیں شام و سحر یہ کھڑکیاں
میرے کوچے میں ترا بھی ، ہو گزر شایٔد کبھی
راستہ دیکھے ترا ، میری نظر ، یہ کھڑکیاں
اَب تو دلکشؔ اُن کے کوچے میں پڑے گا بیٹھنا
کھولتے ہیں کب کِسے وہ بول کر ،یہ کھڑکیاں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






