کہ جس پہ سر رکھ کر روؤں میں، ایسا شانہ نہ تھا

Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawar

جب میں تیرے پیار میں دیوانہ نہ تھا
کسی نے بھی مُجھ کو پہچانہ نہ تھا

کسی نے بھولا، کسی نے پاگل لقب دیا
گُناہ یہ تھا، اُن کی دانست میں، میں دانا نہ تھا

زمانہ بھر کی بُرائیاں مُجھ میں ہی تھیں
بس یہ کمی تھی، میرے ہاتھ میں پیمانہ نہ تھا

دوستوں نے زخم پہ زخم دیئے
جہاں پہ زخم نہ ہو، جگر میں ایسا خانہ نہ تھا

میں بھی وہی ہوں، یہ لوگ بھی وہی ہیں مگر
اب کی بار میں تنقید کا نشانہ نہ تھا

لبوں پہ مُسکان، جگر میں درد لئے پھرتا تھا
کہ جس پہ سر رکھ کر روؤں میں، ایسا شانہ نہ تھا

Rate it:
Views: 499
05 Jan, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL