کہ زخم زخم نہیں ہے رلا گیا کوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسکوتِ شب میں وہ غم کو جگا گیا کوئی
کہ زخم زخم نہیں ہے رلا گیا کوئی
ابھی جنون سلامت ہے میری جان غزل
کرن کرن ہے تصور بنا گیا کوئی
عجب مجاز و حقیقت ہے خطۂ دنیا
جہاں پہ ہنس کر میلہ دیکھا گیا کوئی
وصال یار کے لمحے ہیں عارضی لیکن
مشام جاں میں مگر وہ لگا گیا کوئی
ابھی ہے دشت میں زندہ فراق لیلائی
اگرچہ ختم فسانہ سنا گیا کوئی
ان آہٹوں پہ مری وہم کا گماں کیسا
میں کہہ چکی ہوں مری جان آ گیا کوئی
غزال آنکھیں ہیں ایسی کہ کیا کہوں وشمہ
گلاب چہرے پہ وہ مسکرا گیا کوئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






