کہانی
Poet: Asad By: Asad, mpk پھر اس سے آگے کی کہانی سن
غیر کی چھوڑ اپنی ترجمانی سن
اس رات جب تو ھمین چھوڑ گیا تھا
تنھا کر کے اکیلا منہ موڑ گیا تھا
مشکل سے کٹی تھی وہ رات تیرے بغیر
نہ چاند پورنم اچھا لگا نہ صبح صادق سویر
ان چاھے سے خیال کئی آنے لگے تھے
نفرت کے تیر تہین اندر چلانے لگے تھے
خاموشی نے بھی ماحول کچھ بگاڑ رکھا تھا
اور غمون نے یے لمحہ مانو تاڑ رکھا تھا
امڈ آئے تھے بادل غم ہجران میرے حضور
ہونے لگی تھی رم جھم برسات میرے حضور
بس یہی وہ قصہ تھا جو عام ھو گیا
جسکے کارن سبب تو اسد بدنام ھو گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






