کہانی بنتی گئی ہے فسانہ بنتا گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاکہانی بنتی گئی ہے فسانہ بنتا گیا
مرے خلاف یہ سارا زمانہ بنتا گیا
میں روز چنتی رہی خواہشوں کے تنکے یہاں
خدا کا شکر مرا آشیانہ بنتا گیا
مجھے خبر نہ ہوئی اور میرے سینے میں
نا آشناءے وفا کا ٹھکانہ بنتا گیا
جو شعر لکھتی رہی ہوں میں اپنی مستی میں
وہ تیرے حسنِ نظر کا ترانہ بنتا گیا
یہ ساری دنیا رہی اک طرف اکٹھی مگر
ترے لئے تو الگ دل میں خانہ بنتا رہا
میں وشمہ جوڑ کے رکھتی رہی جو لوگوں کو
محبتوں کا یہ میرا خزانہ بنتا رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






