کہاں تلک مرا دل درد کی دہائی دے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیا

کہاں تلک مرا دل درد کی دہائی دے
مرے خدا مجھے رستہ کوئی سجھائی دے

سمجھ رہا ہے جو جیسا اسے سمجھنے دو
کوئی کسی کو کہاں تک بھلا صفائی دے

مجھے تو صرف تماری رسا سے مطلب ہے
جو چاہتے ہیں خدائی انھیں خدائی دے

مرے خدا مری آنکھیں لہو اگلتی ہیں
اسیر غم ہوں مجھے کرب سے رہائی دے

صدا سنے گا وہ اوروں کی کس طرح آخر
وہ جس کو اپنی صدا تک بھی نہ سنائی دے

چھپا ہوا ہے مجھی میں کہیں کہتا ہے
اگر یہ سچی ہے تو بھر سامنے دکھائی نہ دے

وہ شخص جس کو وفا عمر بھر ملی مجھ سے
وفا کے بدلے مجھے وہ بھی بے وفائی دے

Rate it:
Views: 385
28 Oct, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL