کہاں تیری پرچھائیوں کو پتا تھا

Poet: کامران حامد By: Anila, Peshawar

کہاں تیری پرچھائیوں کو پتا تھا
کہ تیرا پتا تتلیوں کو پتا تھا

مرے رمز جو بھی ہیں جیسے بھی ہیں بس
تری کان کی بالیوں کو پتا تھا

بیاں آپ کو کرنا ممکن نہیں ہے
یہ ساری غزل خوانیوں کو پتا تھا

نہیں پاس میرے غموں کے سوا کچھ
چلو خیر خوش حالیوں کو پتا تھا

کچھ ان کو بھی تھی خبر تھوڑی تھوڑی
کچھ اپنی بھی ناکامیوں کو پتا تھا

کہاں کب زباں کھولنی ہے نہیں ہے
کہ شاید یہ خاموشیوں کو پتا تھا

مناظر جو اب آنکھوں کے سامنے ہیں
ہے حیرت کہ بینائیوں کو پتا تھا

خود اپنی تباہی کا انجام حامدؔ
بڑی مدتوں سے دیوں کو پتا تھا

Rate it:
Views: 633
20 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL