کہاں سنو گے کہاں تک سناؤں درد دلِ بے قرار کا
Poet: داد بلوچ فورٹ منرو By: Dad Baloch, DG khanکہاں سنو گے کہاں تک سناؤں درد دلِ بے قرار کا
آکےسن لے آکے دیکھ لے ذرا نقش مٹ چکے ہیں رخسار کا
جدائی میں آنسو آنکھوں میں آئیں دن وہ سہانے یاد آئیں
عیادت کو لوگ روز آئیں مگر حال تک نہ پوچھا بیمار کا
اخلاص کو ڈھونڈ نہ پائیں دشمنے کچھ اور بھڑ کائیں
بن بادل اولے برسائیں یہ حالات ہیں میرے کہسار کا
سوچوں میں دراڑیں پڑ جائیں بد گمانی کچھ اور بڑھ جائیں
پھول سے خوشبوں چھین نہ جائیں فکر ہے مجھ کو گلزار کا
کیا کریں شکوہ غیر کا دادؔ اپنے بھی اپنے کب تھے
فرقتوں میں جینا اپنے غم کو پینا دل توڑ دیا اشکبار کا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






