کہاں کھو گیا بچپنے کا زمانہ
Poet: UA By: UA, Lahoreہر اک بات کو قہقہوں میں اڑانا
کہاں کھو گیا بچپنے کا زمانہ
صبح سویرے باغوں میں جانا
پھولوں کی ہمراہی میں مسکرانا
پانی پہ کاغذ کی کشتی چلانا
ہر اک بات کو قہقہوں میں اڑانا
کہاں کھو گیا بچپنے کا زمانہ
وہ جھولے پنگوڑے غبارے ہمارے
کہاں رہ گئے جانے سارے کے سارے
لئے ہاتھوں میں ہاتھ وہ آنا جانا
وہ گلیوں بازاروں کے چکر لگانا
زمیں پر پڑی ریت کے گھر بنانا
ہر اک بات کو قہقہوں میں اڑانا
کہاں کھو گیا بچپنے کا زمانہ
وہ چیونگم سپاری چباتے ہوئے
کبھی منھ میں ٹافی دباتے ہوئے
سبھی دوستوں کو خوشی سے دکھانا
اکیلے نہیں سب کو مل کے کھلانا
ہر اک بات کو قہقہوں میں اڑانا
کہاں کھو گیا بچپنے کا زمانہ
عجب ہی مزہ تھا ہر اک بات میں
اٹھلایا کرتے تھے برسات میں
وہ بچوں کا سڑکوں پہ جا کر نہانا
کھڑے پانی سے وہ چھینٹے اڑانا
ہر ایک بات کو قہقہوں میں اڑانا
کہاں کھو گیا بچپنے کا زمانہ
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







