کہاں گئی وہ رونقیں سب ، کیوں اب مساجد اداس لگتی ہیں

Poet: ABuAbdul By: Jamshed, Dubai

کہاں گے وہ اس گھر کے مہمان ، جو دوڑے آتے تھے ہر اذان پہ
کہاں گئی وہ رونقیں سب ، کیوں اب مساجد اداس لگتی ہیں

کہاں گے وہ رمضان کے شوقین ، تڑپ تھی جن کو عبادتوں کی
جہاں رگڑ کے تھے ماتھے سجاے، وہ اب مساجد کیوں بیابان لگتی ہیں

وہ جلدی آنا، جگا بنانا، قرآن پڑھنا اور روتے جانا
جہاں پڑھی رات گے تک تراویح، وہ اب مساجد کیوں ویران لگتی ہیں

جہاں پہ کرتے تھے تم افطاری، جہاں پہ بانٹی تھی تم نے دیگیں
کیوں بھول گے تم سمیٹ کر ثواب ، کیوں اب مساجد ادھار لگتی ہیں

ہوتے تھے حیران دیکھ کر غیر مسلم، بنا فرق کے پڑھنا نمازیں وہ ساری
وہ اب پوچھتے ہیں ہم کو بتاؤ ، کیوں اب مساجد ناقابل استعمال لگتی ہیں

وہ سجانا اسکو، اعتکاف کرنا ، پڑھنا حمد اور وہ نعتیں ساری
کہاں گئی وہ تمہاری عجزو انکساری، کیوں اب مساجد گزرگاہ لگتی ہیں

Rate it:
Views: 612
19 Jul, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL