کہتے ہیں وہ وفا کو نبھایا نہیں گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاکہتے ہیں وہ وفا کو نبھایا نہیں گیا
دل میں تو ایک دل کو بسایا نہیں گیا
ٹوٹا مرے یقین کا میرے ہی ہاتھ سے
اک آئینہ تھا وہ بھہ بچایا نہیں گیا
برسا ہے درد اشک کی صورت زمین پر
دریا تو آنسوؤں کا بہایا نہیں گیا
حیوانیت زمین پہ جلوہ فروز ہے
انسانیت کو پھر بھی بلایا نہیں گیا
میرے طبیب! تجھ سے کروں دوستی میں کیا
اک بھول دل کا تجھ سے کھلایا نہیں گیا
جو بھول چکا پیار کو قول و قرار سب
وشمہ وہ بے وفا تو بھلایا نہیں گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






