کہکشاں
Poet: Syed Suleman Gillani By: Bakhtiar Nasir, Lahoreکسی آستاں پر اے جان‘ یہ سکون جان نہیں ہے
ترے آستاں سے بہتر کوئی آستاں نہیں ہے
میری زیست کی اداسی‘ ترے غم نے دور کر دی
میں کہوں یہ کس زباں سے کہ تو مہرباں نہیں ہے
میری آرزو کی کشتی ہے خدا کے آسرے پر
کوئی ناخدا نہیں ہے‘ کوئی بادباں نہیں ہے
وہ جہاں جہاں سے گزرے وہاں کہکشاںبنا دی
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
تجھے خوف برق ہوگا‘ ترا آشیاں نہ پھونکے
مجھے خوف برق کیوں ہو‘ مرا آشیاں نہیں ہے
وہ نظر‘ نظر نہیں ہے‘ جسے تو نظر نہ آئے
مجھے کوئی یہ بتائے تو بھلا کہاں نہیں ہے
یہی عشق میں ادب ہے ‘ نہ زباں پہ حرف آئے
یہاں خامشی سے بڑھ کر کوئی ترجماں نہیں ہے
تری شب بخیر گزرے‘ تو نہ میری داستاں سن
جسے سن کے نیند آئے‘ مری داستاں نہیں ہے
جو بھی ازراہ تعلق وہ عطا کریں ‘ غنیمت
کوئی دکھ برا نہیں ہے‘کوئی غم گراں نہیں ہے
کہے کس سے دل کی سلماں‘ سبھی لوگ اجنبی ہیں
کوئی آشنا نہیں ہے‘ کوئی ہم زباں نہیں ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






