کہہ دو کہ یہ سب جھوٹ ہے

Poet: امن وسیم By: امن وسیم, ملتان

کہہ دو کہ
یہ سب جھوٹ ہے سب خواب ہے
بھلا یہ کس طرح ممکن
کہ جس سے پیار کرتے ہوں
اسی کو چھوڑ کر جائیں
کہ جس کے بن نہ جیتے ہوں
کوئی لمحہ کوئی بھی پل
اسی سے پھر ہمیشہ کیلیے
منہ موڑ کر جائیں
وہی تو ہے کہ جس نے پیار کا احساس
میرے دل میں جگایا تھا
مجھے جینا سکھایا تھا
اور میرےدل کے کھنڈر کو
اسی نے گھر بنایا تھا
اس نے تو ساتھ رہنے کی
اکٹھے جینے مرنے کی
بہت سی قسمیں کھائی تھیں
وہ کیسے بھول سکتا ہے
ان قسموں کو اور وعدوں کو
بھلا کیسے جلائے گا
وہ اپنے آشیانے کو
میں کیسے مان لوں اس کو
ایسا ہو ہی نہیں سکتا
وہ مجھ کو چھوڑ کر تنہا
اس دنیا سے کبھی بھی جا نہیں سکتا
کہہ دو کہ
یہ سب جھوٹ ہے سب خواب ہے

Rate it:
Views: 494
12 Jul, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL