کہیں آنکھیں نہ بھیگ جائیں۔۔۔۔۔
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreزمانہ بڑا بے درد ہے
خیال رہے
کہیں آنکھیں نہ بھیگ جائیں
ہاں
ہمارے پیار میں کھوئے کھوئے سے رہنا
ہمیں یاد کرتے رہنا
ہمارے سپنے سجاتے رہنا
ہماری تصویر کو یونہی سینے سے لگائے رکھنا
کچھ ہلکی سی شرارتیں یاد آئیں
تو مُسکراتے رہنا
کبھی کوئی موسم دل کو لگے
تو ہلکا ہلکا گنگناتے رہنا
مگر جب کبھی تنہائی میں
میری کوئی بات یاد آئے
تو یاد رکھنا
کہیں آنکھیں نہ بھیگ جائیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







