کہیں ملے تو اس سے کہیو

Poet: MUBASHAR ABBAS By: MUBASHAR ABBAS, ISLAMABAD

کہیں ملے تو اس سے کہیو
کہ
روۓ نہ ، اپنی پلکیں کسی کے غم میں بھگوئے نہ
یہ بھی کہنا کہ
وہ دیوانہ جو تری یاد میں اک زمانہ
درد سہتا رہا ہے جاناں
ہان وہ ہی دیوانہ
جو تیرا منتظر ہی رہا
اپنا حال سے بے خبر ہی رہا
جو اپنے بدن کی قبر میں گڑا ہی رہا
وہ چاندی کے کنگن بڑے شوق سے
اپنے ہاتھوں میں لے کر کھڑا ہی رہا

یہ سب کچھ بتا کر
اسے یہ بھی کہنا
وو پاگل ، مجنوں اب مر گیا ہے
یہ سب کچھ بتا کر
یہ سب کچھ سنا کر
ذرا غور کرنا
اگر وہ غمگین ہونے لگے تو
وہ بے اختیار رونے لگے تو
اسے اتنا کہنا
کہ اے جان جاناں روۓ نہ
اپنی پلکیں کسی کے غم میں بھگوئے نہ
 

Rate it:
Views: 490
10 Sep, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL