کہیں ویراں نہ ہوجائے مرا آباد مئے خانہ
Poet: خلیلی قاسمی By: خلیلی قاسمی, Indiaکہیں ویراں نہ ہوجائے مرا آباد مئے خانہ
صراحی جام خالی ہوں، سبو چھلکے نہ پیمانہ
شمع کے گرد رقصاں ہو کے مستی میں یہ کہتے ہیں
جو جل کر راکھ نہ ہوئے بھلا کیسا وہ پروانہ
مزہ جب ہے کہ رقصاں ہو نگاہِ ناز سے ساقی
جو گردش میں ہو دستِ ناز سے کیسا وہ مستانہ
مرے ذوقِ جنوں کے سامنے تھہرے کہاں کوئی
رہا ہوگا کوئی مجنوں، سنا تھا کوئی فرزانہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






