کہیں پیدا کوئی مجنوں کہیں فرہاد کرتے ہیں
وفا کے نام پر تازہ ستم ایجاد کرتے ہیں
کسی کے دل میں بسنے کے لئے فریاد کرتے ہیں
مگر اہل جہاں ظالم ہمیں برباد کرتے ہیں
کئی ایسے ادھورے کام ہیں اس کے علاوہ بھی
یہ خوش فہمی نہ رکھنا ہم تمہیں ہی یاد کرتے ہیں
یقیں مانو کسی سے مشورہ کرتے نہیں ہیں ہم
مرید عشق ہیں اور عشق کو استاد کرتے ہیں
ترے آنے سے کیا مستی چڑھی بستی کے لوگوں پر
پرندوں کو رہا پر چوم کر صیاد کرتے ہیں
عطاؔ ہم کو زمانے سے الگ کرنے کی خواہش ہے
وہ ہم کرتے نہیں جو دوسرے افراد کرتے ہیں