کہے دیتے ہیں

Poet: Hafeez ur rehman By: hafeez ur rehman, Peshawar

 بات کہنے کی نہی پھر بھی کہے دیتے ہیں
تم نہیں جانتے آداب کہے دیتے ہیں

محبت جنس نہی نہ کہیں پہ بکتی ہے
مانگنے سے بھی نہی ملتی کہے دیتے ہیں

محبت کرنے کا دعوای تمہیں تو تھا لیکن
پیمانے روز بدلتے تھے کہے دیتے ہیں

خود کو بہلاتے رہے کھیلتے رہے مجھ سے
دل کبھی یوں بھی بہلتا ہے کہے دیتے ہیں

تم کو اندازہ نہیں کتنا مجھے ہے تڑپایا
کبھی نہ کر سکے احساس کہے دیتے ہیں

دل لگی تھا ہم سے تمہارے لئے عشق
ہمیں تو کر گیا برباد کہے دیتے ہیں

ریت رُکتی نہیں ہاتھ کی بند مُٹھی میں
ریت سے کھیلتے رہے یہ کہے دیتے ہیں

لاکھ سمجھایا یہ سب نظر کے دھوکے ہیں
سُنی نہ بات مگر پھر بھی کہے دیتے ہیں

راہ جو تم نے چُنی اُس کا تھا انجام یہی
رہو اب تم بھی اکیلے یہ کہے دیتے ہیں

Rate it:
Views: 634
06 Jan, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL