کیا ایسے چلتی ہے راہ نمای
Poet: syed hammad raza naqvi By: syed hammad raza naqvi, Faisalabadبہت پہلے نکلی بہت دیر آئی
یہ گرد سفر راہ مے پائی
اے نقوش تصور کہاں تھی تو اب تک
کیوں اتنی لیٹ لائی
خزاں کی وست مے سفر کر رہی تھی
اچانک چلتے ہوے رک گئی تھی
کیوں اتنے آرام جل رہا ہے چمن
دماغ مے میرے کھٹ کھٹی تھی
نہ کچھ فکر تھا باغباں کو
بلبل بھی بیٹھی ٹکٹکی تھی
تو جس انجمن مے پھولوں کا تھا تاجر
وہاں پے فقط خاک بکتی تھی
میرے لیٹ آنے کی وجہ سمجھ آئی
کیا ایسے چلتی ہے خلق خدائی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






