کیا بات ہو گئ ہے ، ناشاد لگ رہے ہو
Poet: Syed Nazeer Kazmi By: Syed Nazeer Kazmi, Al Ainیہ پرملال چہرہ آنچل میں ڈھک رہے ہو
کیا بات ہو گئ ہے ، ناشاد لگ رہے ہو
دل تھام کر ہماری محفل میں آن بیٹھے
اس دل کے آج ہاتھوں برباد لگ رہے ہو
یہ تو نہیں کہ جیسے بے داد ہم ہوئے ہیں
تم بھی لٹے ہو ایسے! بے داد لگ رہے ہو
جاؤ- نہ دے سکیں گے کوئ بھی ھم دلاسہ
بر آئ کسی دکھی کی فریاد لگ رہے ہو
اس شک بھری نظر سے ،ہمیں گھور کر نہ دیکھو
اپنی ہی زد میں آئے صیاد لگ رہے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






