کیا بتاؤں تم کیا ھو
Poet: JAAN-E-WASHMA By: WASHMA KHAN, MOSCOWکیا بتاؤں تم کیا ھو
یہ میری خود پرستی ھے یا
حق پرستی ھے میرے حال پر دنیا
کیوں ہنستی ھے یا سمجھتی ھے
ترک تعلق کس طرح کس سے کیجھے
دنیا نہیں سمجھتی ھے یہ دنیا کی نئی بستی ھے
کوئی اجرتی ھیں کوئی بستی ھیں
اپنی نہ منزل ھے نہ راستہ پھر بھی
یہ کوئی نہ سمجتی ھےنہ کہتی ھے
ذوق پرستی کاکیا ذوق ھےمیرا
یہ دنیا اتنا نہ سمجھتی ھے
دید سے اتنا دکھہ ھے مجھے
جھوم جھوم کر اتنا برستی ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






