کیا بتائیں کتنا لطفِ زندگی پاتا ہے دل

Poet: Akhtar Muslimi By: Akhtar Muslimi, Azamgarh

کیا بتائیں کتنا لطفِ زندگی پاتا ہے دل
جب نگاہِ ناز تیری زد پہ آجاتا ہے دل

کون ہے غم خوار اپنا شامِ غم اے بے کسی
دل کو بہلاتا ہوں میں یا مجھ کو بہلاتا ہے دل

آ کے ان کی یاد کچھ تسکین دیتی ہے مجھے
جب شبِ فرقت کی تنہائی میں گھبراتا ہے دل

ہائے وہ منظر نہ پوچھو جب بحسنِ اتفاق
ملتی ہیں نظروں سے نظریں دل سے مل جاتا ہے دل

کیوں نہ سمجھوں آپ کو میں سو بہاروں کی بہار
سامنے جب آپ آتے ہیں تو کھِل جاتا ہے دل

کوئی جادہ ہے، نہ منزل ہے، نہ کچھ قیدِ مقام
اپنی دھن میں اک طرف مجھ کو لیے جاتا ہے دل

جانے کیوں اخترؔ مری آنکھوں میں آجاتے ہیں اشک
جب وہ رنگیں داستاں ماضی کی دہراتا ہے دل

Rate it:
Views: 527
23 Aug, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL