کیا تم نے رسوا ساتھ ملے جب رقیب کے

Poet: By: AB shahzad, Mailsi

کیا تم نے رسوا ساتھ ملے جب رقیب کے
سب کام ٹہڑے ہیں مرے اپنے حبیب کے

دم توڑ سب رہی تھیں ادھر میری خواہشیں
لٹکی تھی ساتھ لاش مری جب سلیب کے

درمان عشق کا تھا نہیں بھٹکے در بدر
دکھ کی دوا نہ پاس تھی میرے طبیب کے

آغوش ماں کی تھی ہی نہیں کیسے رکھتا سر
حالات بن بڑے گئے میرے نصیب کے

احساس نام کی کوئی شے دل میں تھی نہیں
تھا طنطنہ ہی لوگ سبھی تھے عجیب کے

معنم نے بھر تجوری ہی اپنی لی دوستو
مر بھوک سے گئے سبھی بچے غریب کے

غربت میں کوئی ساتھ نہ شہزاد چل سکا
سب ٹوٹ ہی گئے جو تھے رشتے قریب کے

Rate it:
Views: 308
18 Dec, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL